حدیث نمبر: 616
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ : ثنا شُعْبَةُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ ، قَالَ : امْتَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ وَأَبُو بُرْدَةَ فِي السَّلَمِ فَأَرْسَلُونِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " كُنَّا نُسْلِمُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَهْدِ أَبِي بَكْرٍ ، وَعَهْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ إِلَى قَوْمٍ مَا هُوَ عِنْدَهُمْ " ، قَالَ : ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنَ أَبْزَى فَقَالَ مثل ذَلِكَ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

ابن ابی مجالد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن شداد اور ابو بردہ کا بیع سلم (کے جواز) میں اختلاف ہو گیا، انہوں نے مجھے سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس (پوچھنے کے لیے) بھیجا، میں نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں گندم، جو، منقیٰ، اور کھجور کی بیع سلم ان لوگوں کے ساتھ کیا کرتے تھے، جن کے پاس یہ چیزیں موجود نہیں ہوتی تھیں۔ پھر میں نے ابن ابزیٰ سے پوچھا، تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 616
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2242-2243»