حدیث نمبر: 602
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ الطُّفَاوِيُّ ، قَالَ : ثنا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ يَعْلَى هُوَ ابْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ : ثني يُوسُفُ بْنُ مَاهَكَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ أَشْتَرِي بُيُوعًا ، فَمَا يَحِلُّ مِنْهَا وَمَا يَحْرُمُ ؟ فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، " إِذَا اشْتَرَيْتَ بَيْعًا فَلا تَبِعْهُ حَتَّى تَقْبِضَهُ " ، وَهَكَذَا قَالَ شَيْبَانُ ، وَهَمَّامٌ : عَنْ يَحْيَى ، عَنْ يَعْلَى ، عَنْ يُوسُفَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ ، عَنْ حَكِيمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، حَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ شَيْبَانَ ، وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ : ثنا حَبَّانُ ، قَالَ : ثنا هَمَّامٌ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں کئی طرح کے سامان خریدتا ہوں، ان میں سے کیا حلال اور کیا حرام ہے؟“ فرمایا: ”بھتیجے! جب آپ کوئی سامان خریدیں تو اسے قبضہ میں لینے سے پہلے مت بیچنا۔“ اس کی اور بھی سندیں ہیں، جن میں لفظی اختلاف پایا جاتا ہے۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 602
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن والحديث صحيحٌ
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن والحديث صحيحٌ: مسند الإمام أحمد: 402,401/3، سنن أبي داود: 3503، سنن النسائي: 4617، سنن الترمذي: 1232، سنن ابن ماجه: 2187، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4983) نے صحیح کہا ہے، امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”هذا إِسْنَادٌ حَسَنٌ مُتَّصِلٌ“ (السنن الكبرى: 313/5)، علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”جَيِّدٌ حَسَنٌ بَلْ صَحِيحٌ“ (نخب الأفكار: 39/2)۔ یحییٰ بن ابی کثیر نے صحیح ابن حبان (4983) میں سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔»