حدیث نمبر: 601
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ عُلَيَّةَ أَخْبَرَهُمْ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ : ثني عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، قَالَ : ثني أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، حَتَّى ذَكَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَحِلُّ سَلَفٌ وَبَيْعٌ ، وَلا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ ، وَلا رِبْحُ مَا لَمْ يَضْمَنْ ، وَلا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرض اور بیع جائز نہیں، نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں جائز ہیں، جس چیز کے نقصان کا آدمی ضامن نہ ہو اس کا نفع لینا بھی جائز نہیں، جو چیز آپ کے پاس موجود نہیں اس کی بیع بھی جائز نہیں۔“

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 601
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن والحديث صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن والحديث صحيح: مسند الإمام أحمد: 174/2-179، سنن أبي داود: 3504، سنن النسائي: 4615، سنن الترمذي: 1234، سنن ابن ماجه: 2188، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/172) فرماتے ہیں: ”هَذَا حَدِيثٌ عَلَى شَرْطِ جُمْلَةِ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ صَحِيحٌ“۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔»