حدیث نمبر: 594
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ أَبَا الْمِنْهَالِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ الْمُزَنِيِّ ، يَقُولُ : لا تَبِيعُوا الْمَاءَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَنْهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ " ، لا أَدْرِي أَيَّ مَاءٍ هُوَ ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى : أَخْبَرَهُ أَبُو الْمِنْهَالِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا ایاس بن عبد مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پانی نہ بیچا کریں، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانی بیچنے سے منع فرما رہے تھے، معلوم نہیں کہ کون سا پانی مراد ہے؟ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کی ایک روایت میں ’مسمع‘ کی جگہ ’اخبرہ‘ کے الفاظ ہیں۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 594
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: مسند الحميدي: 936، مسند الإمام أحمد: 417/3، 4/138، سنن أبي داود: 3478، سنن النسائي: 4666، سنن الترمذي: 1271، سنن ابن ماجه: 2476، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن حبان رحمہ اللہ (4952) نے صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ (تلخیص المستدرک: 2/44) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے۔ امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے، ان کے متابع بھی ہیں۔»