المنتقى ابن الجارود
كتاب الطهارة— پاکی کے احکام و مسائل
في طهارة الماء والقدر الذي ينجس ولا ينجس باب: پانی کی طہارت اور وہ مقدار جس سے پانی ناپاک ہوتا ہے یا نہیں
حدیث نمبر: 59
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: أَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا بِيَدِهِ فَرُئِيَ فِي وَجْهِهِ شِدَّةُ ذَلِكَ فَقَالَ: " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ أَوْ رَبُّهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَإِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْزُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ أَوْ يَقُولُ: هَكَذَا وَبَزَقَ فِي ثَوْبِهِ وَدَلَكَ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ ".ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی قبلہ والی دیوار پر بلغم دیکھا ، تو اسے اپنے ہاتھ سے کھرچ دیا۔ اس وجہ سے شدید غصے کے اثرات آپ کے چہرے پر دیکھے گئے۔ فرمایا: بندہ جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے، تو اپنے رب سے سرگوشیاں کرتا ہے، یا یوں فرمایا: رب تعالیٰ اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے، لٰہذا جب کسی کو تھوک آئے ، تو اپنی بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکے ، یا یوں کرے اور آپ نے اپنے کپڑے پر تھوک کر اسے ایک دوسرے پر مل دیا۔