حدیث نمبر: 588
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ : ثنا شُعْبَةُ ، قَالَ : ثنا أَبُو بِشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْمُتَوَكِّلِ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلُوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَلَمْ يَقْرُوهُمْ وَلَمْ يُضَيِّفُوهُمْ ، قَالَ : فَاشْتَكَى سَيِّدُهُمْ فَأَتَوْنَا ، فَقَالُوا : عِنْدَكُمْ دَوَاءٌ ؟ فَقُلْنَا : نَعَمْ ، وَلَكِنَّكُمْ لَمْ تَقْرُونَا وَلَمْ تُضَيِّفُونَا فَلا نَفْعَلُ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلا ، فَجَعَلُوا لَهُمْ عَلَى ذَلِكَ قَطِيعًا مِنَ الْغَنَمِ ، " فَجَعَلَ رَجُلٌ مِنَّا يَقْرَأُ عَلَيْهِ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ ، فَلَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ ، قَالَ : مَا أَدْرَاكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ؟ ، وَلَمْ يَذْكُرْ نَهْيًا مِنْهُ ، فَقَالَ : " كُلُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ فِي الْجُعَلِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ عرب کے ایک قبیلے کے ہاں مہمان ٹھہرے، انہوں نے ان کی مہمان نوازی اور تواضع نہ کی۔ اس قبیلے کا سردار بیمار ہوگیا، تو وہ ہمارے پاس آکر کہنے لگے: ”کیا تمہارے پاس کوئی علاج ہے؟“ ہم نے کہا: ”جی ہاں! مگر چونکہ تم نے ہماری کوئی مہمان نوازی نہیں کی، اس لیے ہم مزدوری طے کیے بغیر علاج نہیں کریں گے۔“ چنانچہ انہوں نے ان کے لیے بکریوں کا ایک ریوڑ مختص کر دیا۔ ہم میں سے ایک آدمی نے اس پر سورۃ فاتحہ پڑھنا شروع کر دیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو ہم نے آپ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ دم والی سورت ہے؟“ آپ نے اس سے منع نہیں کیا۔ نیز فرمایا: ”خود بھی کھاؤ اور اجرت میں سے میرا حصہ بھی نکالو۔“

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 588
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2276، صحیح مسلم: 2201»