حدیث نمبر: 568
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ يُبَايِعُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ فَأَتَى قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، احْجُرْ عَلَى فُلانٍ فَإِنَّهُ يُبَايِعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكٍ الْبَيْعَ ، فَقُلْ : هَا وَهَا وَلا خِلابَةَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک انصاری آدمی تجارت کرتا تھا، لیکن اس کی بات کمزور ہوتی تھی، اس کی قوم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول! فلاں شخص پر پابندی لگا دیجیے، کیونکہ وہ تجارت تو کرتا ہے، مگر اس کی بات کمزور ہوتی ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر بیع کرنے سے منع کر دیا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں بیع کرنے سے باز نہیں رہ سکتا۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر آپ چھوڑ نہیں سکتے، تو یوں کہہ دیا کریں کہ (سودا) نقد ہوگا اور دھوکہ نہیں دینا۔“

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 568
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف والحديث صحيح بشواهده
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف والحديث صحيح بشواهده: مسند الإمام أحمد: 217/3، سنن أبي داود: 3501، سنن النسائي: 4490، سنن الترمذي: 1250، سنن ابن ماجه: 2354، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن حبان رحمہ اللہ (5049) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (101/4) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے، اس سند میں سعید بن ابی عروہ اور قتادہ کی تدلیس ہے۔ البتہ صحیح بخاری (2117) اور صحیح مسلم (1533) میں اس کا ایک شاہد ہے۔»