المنتقى ابن الجارود
كتاب البيوع والتجارات— خرید و فروخت اور تجارت کے احکام و مسائل
باب في التجارات باب: تجارتوں کے بارے میں باب
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ يُبَايِعُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ فَأَتَى قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، احْجُرْ عَلَى فُلانٍ فَإِنَّهُ يُبَايِعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكٍ الْبَيْعَ ، فَقُلْ : هَا وَهَا وَلا خِلابَةَ " .سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک انصاری آدمی تجارت کرتا تھا، لیکن اس کی بات کمزور ہوتی تھی، اس کی قوم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول! فلاں شخص پر پابندی لگا دیجیے، کیونکہ وہ تجارت تو کرتا ہے، مگر اس کی بات کمزور ہوتی ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر بیع کرنے سے منع کر دیا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں بیع کرنے سے باز نہیں رہ سکتا۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر آپ چھوڑ نہیں سکتے، تو یوں کہہ دیا کریں کہ (سودا) نقد ہوگا اور دھوکہ نہیں دینا۔“