حدیث نمبر: 566
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : ثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ، إِنْ شَاءَ أَنْ يُمْسِكَهَا أَمْسَكَهَا ، وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرُدَّهَا رَدَّهَا وَمَعَهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ لا سَمْرَاءَ " ، قَالَ وَهْبٌ : يَعْنِي الْبُرَّ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مصراة (وہ جانور جس کے تھنوں میں دودھ روک لیا جائے) خریدی، تو اسے تین دن تک اختیار ہے، اگر رکھنا چاہتا ہے، تو رکھ لے اور اگر واپس کرنا چاہتا ہے، تو واپس کر دے اور کھجوروں کا ایک صاع بھی ساتھ دے، گندم نہ دے۔“ وہب کہتے ہیں: سمراء سے مراد گندم ہے۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 566
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم: 1524»