حدیث نمبر: 559
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَمَةُ الْعَبْدِيُّ بَزًّا مِنْ هَجَرَ ، فَجَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاوَمَنَا بِسَرَاوِيلَ ، وَعِنْدَنَا وَزَّانٌ يَزِنُ بِالأَجْرِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْوَزَّانِ : زِنْ وَأَرْجِحْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا سوید بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور مخرمہ عبدی ہجر سے کپڑا لے کر آئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور (چند شلواروں کے کپڑے کا) سودا کیا، ہمارے پاس ایک آدمی تھا، جو مزدوری پر تولا کرتا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”جھکا کر تولا کیجیے (یعنی زیادہ دیا کریں)۔“

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب البيوع والتجارات / حدیث: 559
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح وللحديث شواهد
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح وللحديث شواهد: مسند الإمام أحمد: 352/4، سنن أبي داود: 3336، سنن النسائي: 4596، سنن الترمذي: 1305، سنن ابن ماجه: 2220-2222-3579، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (5147) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (192/4) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔»