المنتقى ابن الجارود
كتاب البيوع والتجارات— خرید و فروخت اور تجارت کے احکام و مسائل
باب في التجارات باب: تجارتوں کے بارے میں باب
حدیث نمبر: 557
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، وَجَامِعٍ ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كُنَّا نَبِيعُ بِالْبَقِيعِ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ ، فَسَمَّانَا بِاسْمٍ أَحْسَنَ مِنِ اسْمِنَا ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم بقیع کے پاس (سامان) بیچا کرتے تھے اور ہمیں سماسرہ (دلال) کہا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت!“ آپ نے ہمارا بہترین نام لیا، پھر فرمایا: ”اس بیع میں قسم اور جھوٹ شامل ہو جاتا ہے، چنانچہ اس کے ساتھ صدقہ کو ملالیا کرو (یعنی صدقہ کے ذریعے اس کمی کو پورا کرلیا کرو)۔“