المنتقى ابن الجارود
كتاب البيوع والتجارات— خرید و فروخت اور تجارت کے احکام و مسائل
باب في التجارات باب: تجارتوں کے بارے میں باب
حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَلا وَاللَّهِ لا أَسْمَعُ بَعْدَهُ أَحَدًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْحَلالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ وَإِنَّ بَيْنَ ذَلِكَ أُمُورًا مُشْتَبِهَاتٍ " ، قَالَ : وَرُبَّمَا قَالَ : " مُشْتَبِهَةً ، وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ فِي ذَلِكَ مثلا : إِنَّ اللَّهَ حَمَى حِمًى وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ ، وَإِنَّهُ مَنْ يَرْعَ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يَرْتَعَ ، وَإِنَّ مَنْ يُخَالِطِ الرِّيبَةَ يُوشِكْ أَنْ يَجْسُرَ " ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : فَلا أَدْرِي هَذَا مَا سَمِعَ مِنَ النُّعْمَانِ أَوْ قَالَ بِرَأْيِهِ .سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: (شعبی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ان کے بعد میں نے کسی سے نہیں سنا کہ اس نے کہا ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے) ”حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے لیکن ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں، میں تمہارے سامنے اس کی مثال بیان کرتا ہوں، بے شک اللہ تعالیٰ نے ایک چراگاہ مقرر کی ہے اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیا ہیں، جو (جانور بھی) چراگاہ کے اردگرد چرے گا، اس کا چراگاہ میں داخل ہو جانا عین ممکن ہے، جو مشکوک چیزوں سے میل ملاپ رکھے گا، قریب ہے کہ وہ ان (کرنے) پر دلیر ہو جائے۔“ ابن عون کہتے ہیں: معلوم نہیں کہ امام شعبی رحمہ اللہ نے یہ بات سیدنا نعمان رضی اللہ عنہما سے سنی ہے یا اپنی رائے سے کی ہے۔