المنتقى ابن الجارود
كتاب الطهارة— پاکی کے احکام و مسائل
في طهارة الماء والقدر الذي ينجس ولا ينجس باب: پانی کی طہارت اور وہ مقدار جس سے پانی ناپاک ہوتا ہے یا نہیں
حدیث نمبر: 55
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَعَلَّانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، قَالَا: ثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي حَفْصَةَ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ قَالَا: ثَنَا عُتْبَةُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ ثُمَّ يَطْرَحْهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ سُمًّا وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً».ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کے مشروب میں مکھی گر جائے ، تو اسے مکمل طور پر اس میں ڈبو دینا چاہیے، پھر نکال کر پھینک دے، کیوں کہ اس کے ایک پَر میں زہر (بیماری) اور دوسرے میں شفا ہوتی ہے۔