المنتقى ابن الجارود
كتاب المناسك— حج و عمرہ (مناسک) کے احکام و مسائل
باب المناسك باب: حج کے مناسک (طریقوں) کا بیان
حدیث نمبر: 510
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : أَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ بِالْمَدِينَةِ مَا ذَعَرْتُهَا ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا بَيْنَ لابَتَيْهَا حَرَامٌ " ، قَالَ مَالِكٌ : حَرَمُ الْمَدِينَةِ بَرِيدٌ فِي بَرِيدٍ ، وَاللابَتَانِ مِنَ الشَّجَرِ وَهُمَا الْحَرَّتَانِ .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اگر میں مدینہ میں ہرن دیکھوں، تو انہیں نہ چھیڑوں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مدینہ کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کا علاقہ حرم ہے۔» امام مالک کہتے ہیں: مدینہ کا حرم چاروں طرف ایک ایک برید (بارہ بارہ میل) ہے۔ لابتان سے مراد دو پتھریلے میدان (حرتان) ہیں۔