المنتقى ابن الجارود
كتاب المناسك— حج و عمرہ (مناسک) کے احکام و مسائل
باب المناسك باب: حج کے مناسک (طریقوں) کا بیان
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ : ثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ : " إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ ، فَهُوَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا أُحِلَّ لأَحَدٍ فِيهِ الْقَتْلُ غَيْرِي ، وَلا يَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ، وَمَا أُحِلَّ لِي فِيهَا إِلا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، وَهُوَ حَرَامٌ حَرَّمَهُ اللَّهُ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ ، لا يُعْضَدُ شَوْكُهُ ، وَلا يُخْتَلَى خَلاهُ ، وَلا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «یہ شہر (مکہ) حرم ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے اس دن حرم بنایا جب اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ یہ اللہ کی حرمت کے ساتھ قیامت تک حرم رہے گا۔ میرے علاوہ کسی کے لیے اس میں قتال جائز نہیں تھا، اور میرے بعد بھی کسی کے لیے جائز نہیں ہو گا۔ میرے لیے بھی یہ صرف دن کے ایک حصے کے لیے حلال کیا گیا۔ یہ اللہ کی حرمت کے ساتھ قیامت تک حرم رہے گا۔ نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں، نہ اس کی گھاس توڑی جائے، اور نہ اس کا شکار بھگایا جائے۔»