حدیث نمبر: 508
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزِيدٍ ، أَنَّ أَبَاهُ ، أَخْبَرَهُ ، قَالَ : ثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : ثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : ثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ : ثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ قَتَلَتْ هُذَيْلٌ رَجُلا مِنْ بَنِي لَيْثٍ بِقَتِيلٍ لَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ ، وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِي وَلا تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ ، لا يُعْضَدُ شَجَرُهَا ، وَلا يُخْتَلَى شَوْكُهَا ، وَلا يُلْتَقَطُ سَاقِطَتُهَا إِلا لِمُنْشِدٍ ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يُقَادَ وَإِمَّا أَنْ يُفَادَى ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أَبُو شَاةٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اكْتُبْ لِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اكْتُبُوا لأَبِي شَاةٍ ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلا الإِذْخَرَ ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي مَسَاكِنِنَا وَقُبُورِنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِلا الإِذْخَرَ إِلا الإِذْخَرَ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب مکہ فتح ہوا، تو بنو ہذیل نے جاہلیت کے ایک مقتول کے بدلے بنو لیث کے ایک شخص کو قتل کر دیا۔ جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی، تو آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا: «اللہ تعالیٰ نے مکہ میں قتال منع کر دیا ہے اور اپنے رسول اور مومنین کو اس پر مسلط کیا۔ یہ میرے سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھی، اور میرے بعد کسی کے لیے حلال نہیں ہو گی۔ میرے لیے بھی یہ صرف دن کے ایک حصے کے لیے حلال کی گئی۔ اس وقت یہ حرم ہے، اس کے درخت نہیں کاٹے جائیں گے، نہ اس کے کانٹے توڑے جائیں گے، نہ اس کی گم شدہ چیز اٹھائی جائے گی سوائے اس کے جو اس کا اعلان کرے۔ اور جس کا کوئی قتل کر دیا جائے، وہ دو چیزوں میں سے بہتر اختیار کر سکتا ہے: یا تو قصاص لے یا دیت قبول کرے۔» اس پر یمن کا ایک شخص ابو شاہ کھڑا ہوا اور بولا: یا رسول اللہ! یہ میرے لیے لکھ دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ابو شاہ کے لیے لکھ دو۔» پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اذخر گھاس کو مستثنیٰ کر دیں، کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: «اذخر مستثنیٰ ہے، اذخر مستثنیٰ ہے۔»

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 508
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري: 2434، صحيح مسلم: 1355»