المنتقى ابن الجارود
كتاب المناسك— حج و عمرہ (مناسک) کے احکام و مسائل
باب المناسك باب: حج کے مناسک (طریقوں) کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، فِيمَا حَدَّثَنَا مِنَ الْمَغَازِي ، قَالَ : قَالَ مَعْمَرٌ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ يصدق كل واحد منهما حديث صاحبه ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ ، وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ وَبَعَثَ بَيْنَ يَدَيْهِ عَيْنًا لَهُ مِنْ خُزَاعَةَ يُخْبِرُهُ عَنْ قُرَيْشٍ ، وَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِغَدِيرِ الأَشْطَاطِ قَرِيبًا مِنْ عُسْفَانَ ، أَتَاهُ عَيْنَهُ الْخُزَاعِيُّ ، فَقَالَ : إِنَّنِي تَرَكْتُ كَعْبَ بْنَ لُؤَيٍّ ، وَعَامِرَ بْنَ لُؤَيٍّ قَدْ جَمَعُوا لَكَ الأَحَابِيشَ وَجَمَعُوا لَكَ جُمُوعًا وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ وَصَادُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَشِيرُوا عَلَيَّ ، فَذَكَرَ ابْنُ يَحْيَى الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي صَدِّ الْمُشْرِكِينَ إِيَّاهُمْ عَنِ الْبَيْتِ ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ بَعْدَ ذِكْرِ الْقَضِيَّةِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِهِ : " قُومُوا فَانْحَرُوا ثُمَّ احْلِقُوا " ، وَذَكَرَ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ .سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم رضی اللہ عنہ ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے سال تیرہ سو سے زائد صحابہ کے ساتھ نکلے۔ جب ذوالحلیفہ پہنچے، تو آپ نے قربانی کے جانور کو قلادہ پہنایا، اشعار کیا، اور عمرہ کا احرام باندھا، اور بنو خزاعہ کے ایک شخص کو جاسوس بنا کر آگے بھیجا تاکہ وہ قریش کے حالات کی خبر دے۔ آپ عسفان کے قریب غدیر اشطاط پر پہنچے، تو خزاعی جاسوس نے آ کر بتایا کہ کعب بن لؤی اور عامر بن لؤی نے آپ کے خلاف احابیش اور دیگر جماعتیں اکٹھی کر لی ہیں، وہ آپ سے لڑیں گے اور بیت اللہ سے روکیں گے۔ آپ نے فرمایا: «مجھے مشورہ دو۔» ابن یحییٰ نے مشرکوں کے بیت اللہ سے روکنے کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا اور آخر میں کہا کہ فیصلے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: «اٹھو، قربانیاں کر دو اور سر منڈوا لو۔» انہوں نے باقی حدیث بھی بیان کی۔