المنتقى ابن الجارود
كتاب المناسك— حج و عمرہ (مناسک) کے احکام و مسائل
باب المناسك باب: حج کے مناسک (طریقوں) کا بیان
حدیث نمبر: 492
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ ، ثُمَّ رَجَعَ فَمَكَثَ بِمِنًى اللَّيَالِيَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ يَرْمِي الْجَمْرَةَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ، كُلَّ جَمْرَةٍ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَيَقِفُ عِنْدَ الأُولَى وَعِنْدَ الثَّانِيَةِ فَيُطِيلُ الْقِيَامَ وَيَتَضَرَّعُ ، ثُمَّ يَرْمِي الثَّالِثَةَ وَلا يَقِفُ عِنْدَهَا " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دن کے آخر میں جب ظہر کی نماز پڑھ لی، تو طوافِ افاضہ کیا، پھر منیٰ واپس آئے اور ایامِ تشریق کی راتیں وہیں گزاریں۔ جب سورج ڈھل جاتا، تو آپ ہر جمرہ پر سات کنکریاں مارتے اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے۔ آپ جمرہ اولیٰ اور جمرہ ثانیہ پر لمبا قیام کرتے اور عاجزی و تضرع کرتے، پھر تیسرے جمرہ پر کنکریاں مارتے اور وہاں قیام نہ کرتے۔