المنتقى ابن الجارود
كتاب المناسك— حج و عمرہ (مناسک) کے احکام و مسائل
باب المناسك باب: حج کے مناسک (طریقوں) کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَتِهِ بِمِنًى فَجَاءَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ أَظُنُّ الْحَلْقَ قَبْلَ النَّحْرِ ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَنْحَرَ ، قَالَ : انْحَرْ وَلا حَرَجَ " ، قَالَ : وَجَاءَهُ آخَرُ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ أَظُنُّ الْحَلْقَ قَبْلَ الرَّمْيِ ، فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ ، قَالَ : ارْمِ وَلا حَرَجَ " ، قَالَ : فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ قَدَّمَهُ رَجُلٌ وَأَخَّرَهُ ، إِلا قَالَ : " افْعَلْ وَلا حَرَجَ " .سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منیٰ میں اونٹنی پر سوار دیکھا۔ ایک شخص آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میرا خیال تھا کہ قربانی سے پہلے سر منڈوانا ہوتا ہے، اس لیے میں نے قربانی سے پہلے سر منڈوا لیا، کوئی حرج تو نہیں؟ فرمایا: «اب قربانی کر لو، کوئی حرج نہیں۔» ایک اور شخص آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میرا خیال تھا کہ کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈوانا ہوتا ہے، اس لیے میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے سر منڈوا لیا، کوئی حرج تو نہیں؟ فرمایا: «اب کنکریاں مار لو، کوئی حرج نہیں۔» اس دن آپ سے جس چیز کے متعلق بھی پوچھا گیا جس میں کسی نے تقدیم یا تاخیر کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «کر لو، کوئی حرج نہیں۔»