حدیث نمبر: 473
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَنَا عِيسَى ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ الْعَقَبَةِ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ : " هَاتِ الْقُطْ " ، فَلَقَطْتُ لَهُ حَصَيَاتٍ نَحْوًا مِنْ حَصَى الْخَذْفِ ، فَلَمَّا وَضَعْتُهُنَّ فِي يَدِهِ ، قَالَ : " مثل هَؤُلاءِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ، وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُوَّ فِي الدِّينِ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِالْغُلُوِّ فِي الدِّينِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عقبہ کی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا، جب کہ آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے، کہ کنکریاں لے کر آؤ۔ چنانچہ میں نے آپ کے لیے چھوٹی چھوٹی کنکریاں اکٹھی کیں جو انگلی سے پھینکنے کے برابر تھیں۔ جب میں نے وہ آپ کے ہاتھ پر رکھیں، تو آپ نے تین مرتبہ فرمایا: «ایسی ہی کنکریاں مارو» اور فرمایا: «دین میں غلو سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ دین میں غلو کی وجہ سے تباہ ہوئے۔»

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 473
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 215/1، 347، سنن النسائي: 3059، سنن ابن ماجه: 3029، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2868) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3871) نے صحیح کہا ہے۔»