المنتقى ابن الجارود
كتاب الطهارة— پاکی کے احکام و مسائل
في طهارة الماء والقدر الذي ينجس ولا ينجس باب: پانی کی طہارت اور وہ مقدار جس سے پانی ناپاک ہوتا ہے یا نہیں
حدیث نمبر: 46
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: كُنَّا فِي بُسْتَانٍ لَنَا أَوْ لِعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ عُبَيْدُ اللَّهِ إِلَى مَقَرِّي الْبُسْتَانِ وَفِيهِ جِلْدُ بَعِيرٍ فَأَخَذَ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ فَقُلْنَا: أَتَتَوَضَّأُ مِنْ هَذَا وَفِيهِ هَذَا الْجِلْدُ؟ فَقَالَ: ثَنِي أَبِي، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ فَإِنَّهُ لَا يَنْجُسُ».ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
عاصم بن منذر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے یا عبید اللہ بن عبد اللہ بن عمر رحمہ اللہ کے باغ میں تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا، عبید اللہ اٹھ کر اپنے باغ کے تالاب کے پاس گئے اور وضو کرنے لگے ، جب کہ اس میں اونٹ کا چمڑا پڑا ہوا تھا۔ ہم نے کہا: آپ اس سے وضو کر رہے ہیں ، جب کہ اس میں یہ چمڑا پڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے بتایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر پانی دو مٹکے (یا اس سے زائد ) ہو، تو نجس نہیں ہوتا۔