حدیث نمبر: 452
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا أَصْبَغُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، أَنَّ أَبَاهُ ، حَدَّثَهُ ، قَالَ : قَبَّلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْحَجَرَ ، ثُمَّ قَالَ " أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ حَجَرٌ وَلَوْلا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ " ، قَالَ عَمْرٌو ، وَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سالم کہتے ہیں کہ ان کے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا، پھر فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہے کہ تو ایک پتھر ہے۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا، تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا۔ عمرو کہتے ہیں: زید بن اسلم نے بھی مجھے اپنے والد سے اسی طرح کی روایت بیان کی۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 452
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم: 1270»