المنتقى ابن الجارود
كتاب المناسك— حج و عمرہ (مناسک) کے احکام و مسائل
باب المناسك باب: حج کے مناسک (طریقوں) کا بیان
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : امْتَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي غُسْلِ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ وَهُمَا بِالْعَرْجِ ، فَأَرْسَلُونِي إِلَى أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَأَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ قَرْنَيْ بِئْرٍ فَسَلَّمْتُ فَضَمَّ الثَّوْبَ إِلَى صَدْرِهِ ، فَقُلْتُ : أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ ابْنُ أَخِيكَ أَسْأَلُكَ كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ ؟ قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ هَكَذَا ، فَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ عَلَى رَأْسِهِ مُقْبِلا وَمُدْبِرًا ، قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ " .عبداللہ بن حنین بیان کرتے ہیں کہ مقام عرج پر سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہم کے درمیان محرم کے سر دھونے پر اختلاف ہوا، تو انہوں نے مجھے سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا۔ میں ان کے پاس آیا تو انہیں کنویں پر گاڑی ہوئی دو لکڑیوں کے درمیان غسل کرتے پایا۔ میں نے سلام کیا تو انہوں نے اپنا کپڑا سینے تک لپیٹ لیا۔ میں نے کہا: مجھے آپ کے بھتیجے نے یہ پوچھنے کے لیے بھیجا ہے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت احرام میں سر کیسے دھوتے دیکھا؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح سر دھوتے دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھوں کو سر پر آگے سے پیچھے اور پیچھے سے آگے لاتے تھے۔