المنتقى ابن الجارود
كتاب المناسك— حج و عمرہ (مناسک) کے احکام و مسائل
باب المناسك باب: حج کے مناسک (طریقوں) کا بیان
حدیث نمبر: 435
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّهُ كَانَ مَعَ أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ مُحْرِمُونَ وَأَبُو قَتَادَةَ لَيْسَ بِمُحْرِمٍ ، فَرَكِبَ فَرَسًا فَصَرَعَ حِمَارَ وَحْشٍ فَأَكَلَ مِنْ لَحْمِهِ ، وَأَبَى أَصْحَابُهُ أَنْ يَأْكُلُوا وَإِنَّهُمْ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَشَرْتُمْ ، أَوْ قَتَلْتُمْ ، أَوْ أَصَدْتُمْ " قَالُوا : لا ، قَالَ : " لا بَأْسَ بِهِ كُلُوهُ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند محرم صحابہ کے ساتھ تھے، جبکہ وہ خود حالت احرام میں نہیں تھے۔ انہوں نے گھوڑے پر سوار ہو کر ایک جنگلی گدھے کو مار گرایا اور اس کا گوشت کھایا، مگر ان کے ساتھیوں نے کھانے سے انکار کیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: کیا تم نے اشارہ کیا، قتل کیا یا شکار کیا؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں، اسے کھاؤ۔