المنتقى ابن الجارود
كتاب الطهارة— پاکی کے احکام و مسائل
في طهارة الماء والقدر الذي ينجس ولا ينجس باب: پانی کی طہارت اور وہ مقدار جس سے پانی ناپاک ہوتا ہے یا نہیں
حدیث نمبر: 43
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: ثَنَا مَالِكٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، أَنَّ الْمُغِيرَةِ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ فَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ فَإِنْ تَوَضَّأَنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ بِمَاءِ الْبَحْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحَلَالُ مَيْتَتُهُ».ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کے رسول! ہم سمندری سفر کرتے وقت اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی لے جاتے ہیں، اگر اس سے وضو کریں، تو پیاسے رہ جاتے ہیں۔ کیا ہم سمندری پانی سے وضو کر لیا کریں؟ فرمایا: اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔