المنتقى ابن الجارود
كتاب المناسك— حج و عمرہ (مناسک) کے احکام و مسائل
باب المناسك باب: حج کے مناسک (طریقوں) کا بیان
حدیث نمبر: 423
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِيَّ هَاتَيْنِ ، ثُمَّ لا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ " ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : وَلا يَعْتَزِلُ شَيْئًا وَلا يَتْرُكُهُ ، قَالَتْ : وَلا نَعْلَمُ الْحَاجُّ مَحِلُّهُ شَيْءٌ إِلا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے جانوروں کے قلادے اپنے ان دونوں ہاتھوں سے بٹتی تھی، پھر آپ ان چیزوں سے اجتناب نہیں کرتے تھے جن سے محرم اجتناب کرتا ہے۔ عبدالرحمن بن القاسم کہتے ہیں: آپ نہ کسی چیز سے الگ ہوتے تھے اور نہ چھوڑتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم نہیں جانتے کہ حاجی کے لیے طواف بیت اللہ کے علاوہ کوئی اور چیز احرام کھولنے کا باعث ہوتی ہے۔