حدیث نمبر: 419
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : ثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ ، عَنْ هِلالٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَحُجَّ ، أَفَأَشْتَرِطُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَتْ : كَيْفَ أَقُولُ ؟ قَالَ : " قُولِي : لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ مَحِلِّي مِنَ الأَرْضِ حَيْثُ حَبَسْتَنِي " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: یا رسول اللہ! میں حج کرنا چاہتی ہوں، کیا میں شرط رکھ سکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! انہوں نے پوچھا: پھر میں کیا کہوں؟ فرمایا: یوں کہو: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ مَحِلِّي مِنَ الْأَرْضِ حَيْثُ حَبَسْتَنِي» (اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، جس جگہ تو مجھے روک لے، میں وہیں احرام کھول دوں گی)۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 419
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح: مسند الإمام أحمد: 360/6، سنن أبي داود: 1776، سنن النسائي: 2767، سنن الترمذي: 941، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح کہا ہے اور امام مسلم رحمہ اللہ (1208) نے بھی روایت کیا ہے۔»