المنتقى ابن الجارود
كتاب المناسك— حج و عمرہ (مناسک) کے احکام و مسائل
باب المناسك باب: حج کے مناسک (طریقوں) کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالا : " وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ ، وَلأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ ، وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا " ، وَقَالَ ابْنُ طَاوُسٍ : قَرْنُ الْمَنَازِلِ ، وَلأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ ، قَالَ عَمْرٌو : وَقَالَ ابْنُ طَاوُسٍ : أَلَمْلَمَ ، قَالَ : " فَهُنَّ لأَهْلِهِنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ وَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ " ، قَالَ عَمْرٌو : فَمِنْ أَهْلِهِ ، وَقَالَ ابْنُ طَاوُسٍ : فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ ، فَكَذَاكَ ، حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا .سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور طاؤس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لیے جحفہ، اہل نجد کے لیے قرن منازل، اہل یمن کے لیے یلملم کو میقات مقرر کیا ہے۔ عمرو کہتے ہیں: ابن طاؤس نے اسلم کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میقات وہاں کے باشندوں کے لیے بھی ہیں اور دیگر علاقوں کے ان لوگوں کے لیے بھی، جو وہاں سے گزر کر آئیں اور جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہوں ان کا میقات ان کے گھر سے ہی شروع ہو گا حتی کہ مکہ والے مکہ ہی سے احرام باندھیں گے۔