حدیث نمبر: 410
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْحَجُّ كُلَّ عَامٍ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا ، بَلْ حَجَّةٌ ، ثُمَّ مَنْ شَاءَ أَنْ يَتَطَوَّعَ فَلْيَتَطَوَّعْ بَعْدُ ، وَلَوْ قُلْتُ كُلَّ عَامٍ ، كَانَ كُلَّ عَامٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال فرض ہے؟ فرمایا: نہیں، بلکہ (زندگی میں) ایک مرتبہ فرض ہے، پھر اس کے بعد جو نفلی حج کرنا چاہے، تو کر سکتا ہے، اگر میں کہہ دیتا کہ حج ہر سال فرض ہے، تو ہر سال فرض ہو جاتا۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب المناسك / حدیث: 410
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف والحديث صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف والحديث صحيح: مسند الإمام أحمد: 92/1، 103، 323، مسند الطيالسي: 2269، سنن الدارقطني: 281/2، صحیح مسلم (1337) وغیرہ میں اس کے شواہد بھی ہیں، سماک بن حرب کی روایت عکرمہ سے ضعیف ہوتی ہے۔»