حدیث نمبر: 400
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، قَالَ : أَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : ثَنِي ابْنُ الْهَادِ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : " لَقَدْ كَانَتْ إِحْدَانَا تُفْطِرُ فِي رَمَضَانَ فَمَا تَقْدِرُ عَلَى أَنْ تَقْضِيَ حَتَّى يَدْخُلَ شَعْبَانُ " . " مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ فِي شَهْرٍ مَا كَانَ يَصُومُ فِي شَعْبَانَ ، كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ إِلا قَلِيلا ، بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلُّهُ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم (ازواج رسول صلی اللہ علیہ وسلم) بیماری کی وجہ سے رمضان کے روزے چھوڑتیں، تو شعبان کا مہینہ آنے تک ان کی قضا نہ دے سکتیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جتنے روزے شعبان میں رکھا کرتے تھے، اتنے کسی اور مہینے میں نہ رکھتے تھے، چند دن چھوڑ کر آپ شعبان کا پورا مہینہ ہی روزے رکھتے تھے، بلکہ پورا شعبان ہی روزے رکھتے تھے۔