المنتقى ابن الجارود
كتاب الطهارة— پاکی کے احکام و مسائل
الاستنجاء بالماء باب: پانی سے استنجاء کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبَيْرُوتِيُّ، أَنَّ ابْنَ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ نَافِعٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ: ثَنِي أَبُو أَيُّوبَ، وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّونَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ لَمَّا نَزَلَتْ {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ} [التوبة: ١٠٨] قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَثْنَى عَلَيْكُمْ خَيْرًا فِي الطُّهْرِ فَمَا طُهُورُكُمْ هَذَا؟» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ وَنَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَهَلْ مَعَ ذَلِكَ غَيْرُهُ؟» قَالُوا: لَا غَيْرَ أنَّ أَحَدَنَا إِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ أَحَبَّ أَنْ يَسْتَنْجِيَ بِالْمَاءِ قَالَ: «فَهُوَ ذَلِكَ فَعَلَيْكُمُوهُ».ابو ایوب انصاری، جابر بن عبداللہ انصاری اور انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی۔ ”اس بستی میں ایسے لوگ ہیں، جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالی بھی پاک صاف لوگوں کو پسند کرتا ہے“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصاریو! اللہ تعالیٰ نے آپ کی طہارت کی تعریف کی ہے ، کیسے طہارت کرتے ہیں؟ عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم نماز کے لیے وضو اور جنابت کے بعد غسل کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا کچھ اور بھی کرتے ہیں؟ عرض کیا: بس یہی ، البتہ جب ہم پاخانہ کر کے فارغ ہوتے ہیں، تو پانی سے استنجا کرنا پسند کرتے ہیں، فرمایا: بس یہی وجہ ہے ، لہذا اس پر عمل پیرا رہیے ۔