حدیث نمبر: 387
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ : ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ : ثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ يَحْتَجِمُ لَيْلا ، فَقُلْتُ : لَوْلا كَانَ هَذَا نَهَارًا ، فَقَالَ : أَتَأْمُرُنِي أَنْ أُهَرِيقَ دَمِي وَأَنَا صَائِمٌ ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

ابو رافع کہتے ہیں کہ میں سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ رات کو پچھنا لگوا رہے تھے۔ میں نے کہا: آپ نے دن میں کیوں نہ لگوایا؟ انہوں نے فرمایا: کیا تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میں روزے کی حالت میں اپنا خون بہاؤں، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ پچھنا لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 387
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف: السنن الكبرى للنسائي: 3208، شرح معاني الآثار للطحاوي: 98/2، السنن الكبرى للبيهقي: 266/4، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (430/1) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے۔ سعید بن ابی عروبہ مدلس اور مختلط ہیں۔»