حدیث نمبر: 384
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : قَدْ هَلَكْتُ ، قَالَ : وَمَا شَأْنُكَ ؟ قَالَ : وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ ، فَقَالَ : أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَعْتِقَ رَقَبَةً ؟ قَالَ : لا ، قَالَ : أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ؟ قَالَ : لا ، قَالَ : أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ؟ قَالَ : لا ، قَالَ : اجْلِسْ ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَالْعَرَقُ الْمِكْتَلُ الضَّخْمُ ، فَقَالَ : خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ ، قَالَ : عَلَى أَفْقَرَ مِنَّا ، فَمَا بَيْنَ لابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرَ مِنَّا ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ، قَالَ : خُذْ هَذَا وَأَطْعِمْهُ عِيَالَكَ " ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ : وَقَالَ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، وَمَعْمَرٌ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، وَالأَوْزَاعِيُّ ، وَشُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، وَعُقَيْلٌ ، وَعِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ ، وَابْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، وَمَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ : وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي ، أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَعْتِقَ رَقَبَةً ؟ أَوْ عَلَى هَذَا الْمَعْنَى ، وَقَالَ مَالِكٌ ، وَابْنُ جُرَيْجٍ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيُّ : " إِنَّ رَجُلا أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ أَوْ صِيَامٍ أَوْ إِطْعَامٍ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: میں ہلاک ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ہوا؟ اس نے کہا: میں نے رمضان (روزے کی حالت) میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم غلام آزاد کر سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں سے بھرا ایک بڑا ٹوکرا آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے لو اور صدقہ کر دو۔ اس نے کہا: کیا ہم سے زیادہ محتاج گھرانے پر صدقہ کروں؟ مدینہ کے دو سیاہ پہاڑوں کے درمیان ہم سے زیادہ محتاج کوئی گھر نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر ہنسے کہ آپ کے ڈاڑھ نظر آ گئے اور فرمایا: اسے لے جاؤ اور اپنے اہل و عیال کو کھلا دو۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 384
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 1936، صحیح مسلم: 1111»