حدیث نمبر: 382
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَمْنَعُكُمْ أَذَانُ بِلالٍ مِنْ سُحُورِكُمْ ، فَإِنَّ بِلالا يُؤَذِّنُ لِيُوقِظَ نَائِمَكُمْ وَلِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ ، وَلَيْسَ مَا يَكُونُ هَكَذَا وَلا هَكَذَا حَتَّى يَكُونَ هَكَذَا وَهَكَذَا يَعْنِي الْفَجْرَ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلال رضی اللہ عنہ کی اذان تمہیں سحری کھانے سے نہ روکے، کیونکہ بلال رضی اللہ عنہ اذان اس لیے دیتے ہیں تاکہ سوئے ہوئے کو جگائیں اور قیام کرنے والا واپس آ جائے۔ فجر وہ نہیں جو اوپر سے نیچے ہو، بلکہ وہ ہے جو دائیں بائیں پھیلتی ہو۔