أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالَ : ثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ : ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " رُخِّصَ لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ وَالْعَجُوزِ الْكَبِيرَةِ فِي ذَلِكَ وَهُمَا يُطِيقَانِ الصَّوْمَ أَنْ يُفْطِرَا إِنْ شَاءَا أَوْ يُطْعِمَا كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينًا وَلا قَضَاءَ عَلَيْهِمَا ، ثُمَّ نُسِخَ ذَلِكَ فِي هَذِهِ الآيَةِ : فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ سورة البقرة آية 185 ، وَثَبَتَ لِلشَّيْخِ الْكَبِيرِ وَالْعَجُوزِ الْكَبِيرَةِ إِذَا كَانَا لا يُطِيقَانِ الصَّوْمَ ، وَالْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ إِذَا خَافَتَا أَفْطَرَتَا وَأَطْعَمَتَا كُلَّ يَوْمٍ مِسْكِينًا " .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کو، جو روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے تھے، اجازت دی گئی تھی کہ اگر وہ چاہیں تو روزہ نہ رکھیں اور ہر روز کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائیں، اور ان پر قضا لازم نہ ہو۔ پھر یہ حکم آیت ﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ (البقرة: 185) سے منسوخ ہو گیا۔ اب یہ اجازت صرف ان بوڑھے مرد اور عورت کے لیے ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں، اور حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کے لیے اگر انہیں اپنے بچے کا خطرہ ہو، تو وہ روزہ نہ رکھیں اور ہر روز ایک مسکین کو کھانا کھلائیں۔