حدیث نمبر: 379
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ : ثَنَا الْفَضْلُ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلالَ ، فَقَالَ : " أَتَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : يَا بِلال ، نَادِ فِي النَّاسِ ، فَلْيَصُمُوا غَدًا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں نے چاند دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا کہ روزہ رکھو۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 379
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف: سنن أبي داود: 2340، سنن النسائي: 2115، سنن الترمذي: 691، سنن ابن ماجه: 1652، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1923) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3446) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (297/1) فرماتے ہیں: ہذا حدیث صحیح الاسناد متداول بین الفقہاء، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ سماک بن حرب کی عکرمہ سے بیان کردہ روایت ضعیف اور مضطرب ہوتی ہے (تقریب التہذیب: 2624)۔»