حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : ثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ : بُعِثْتُ إِلَى عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ صِيَامِ رَمَضَانَ إِذَا خَفِيَ الْهِلالُ ، وَعَنِ الصَّلاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ : إِنَّ فُلانًا يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلامَ ، بَعَثَنِي إِلَيْكِ أَسْأَلُكُ عَنِ الصَّلاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَعَنِ الْوِصَالِ ، وَعَنِ الصِّيَامِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ، فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ ، قَالَ : قَالَتْ : " وَكَانَ يَتَحَفَّظُ مِنْ شَعْبَانَ مَا لا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ ، ثُمَّ يَصُومُ لِرُؤْيَةِ رَمَضَانَ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ عَدَّ ثَلاثِينَ ثُمَّ صَامَ " تَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .عبداللہ بن ابی قیس کہتے ہیں کہ مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا گیا تاکہ میں ان سے رمضان کے چاند کے چھپ جانے کی صورت میں روزہ رکھنے، عصر کے بعد نفل نماز، اور وصال کے بارے میں پوچھوں۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: فلاں آپ کو سلام پیش کرتا ہے اور مجھے آپ سے عصر کے بعد نفل نماز، وصال، اور رمضان کے روزوں کے بارے میں پوچھنے کے لیے بھیجا ہے۔ انہوں نے حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا اور فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے ایام کی دیگر مہینوں کے مقابلے میں زیادہ احتیاط کرتے تھے، پھر رمضان کا چاند دیکھ کر روزہ رکھتے۔ اگر چاند نظر نہ آتا تو شعبان کے تیس دن شمار کرتے، پھر روزہ رکھتے۔