حدیث نمبر: 374
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالا : ثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : ثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَنِي أَبُو جَمْرَةَ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُقْعِدُنِي عَلَى سَرِيرِهِ ، قَالَ : إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنِ الْقَوْمُ أَوْ مَنِ الْوَفْدُ ؟ قَالُوا : مِنْ رَبِيعَةَ ، قَالَ : فَمَرْحَبًا بِالْوَفْدِ أَوْ بِالْقَوْمِ غَيْرَ خَزَايَا وَلا نَادِمِينَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لا نَسْتَطِيعُ إِتْيَانَكَ إِلا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ ، وَإِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ كُفَّارِ مُضَرَ ، فَأَخْبِرْنَا بِأَمْرٍ فَصْلٍ نُخْبِرْ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا وَنَدْخُلْ بِهِ الْجَنَّةَ ، قَالَ : وَسَأَلُوهُ عَنِ الأَشْرِبَةِ ، قَالَ : " فَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ وَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ : قَالَ : أَمَرَهُمْ بِالإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ ، قَالَ : تَدْرُونَ مَا الإِيمَانِ بِاللَّهِ وَحْدَهُ ؟ قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : شَهَادَةُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامُ الصَّلاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَصِيَامُ رَمَضَانَ ، وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغْنَمِ الْخُمْسَ ، وَنَهَاهُمْ عَنِ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ ، وَرُبَّمَا قَالَ : وَالْمُقَيَّرِ وَالْمُزَفَّتِ ، وَقَالَ : احْفَظُوهُنَّ وَأَخْبِرُوا بِهِ مَنْ وَرَاءَكُمْ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

ابو جمرہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مجھے اپنی چارپائی پر بٹھایا کرتے تھے۔ انہوں نے فرمایا: جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں یا کون سا وفد ہے؟ انہوں نے کہا: ہم ربیعہ کے لوگ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وفد یا قوم کو مرحبا، نہ ذلیل ہونے والے اور نہ شرمندہ ہونے والے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ کی خدمت میں حرمت والے مہینوں کے علاوہ نہیں آ سکتے کیونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کافروں کا قبیلہ ہے۔ ہمیں کوئی قطعی بات بتائیں جسے ہم اپنے پیچھے والوں کو بتائیں اور اس پر عمل کر کے جنت میں داخل ہوں۔ انہوں نے مشروبات کے بارے میں بھی پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا اور چار چیزوں سے منع کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیا اور پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر ایمان لانا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکاة ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، اور غنیمت میں سے خمس (پانچواں حصہ) دینا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سبز لاکھی مرتبان، کدو کے برتن، کھوکھلی لکڑی کے برتن، اور روغنی برتن کے استعمال سے منع کیا اور فرمایا: ان باتوں کو یاد رکھو اور اپنے پیچھے والوں کو بتاؤ۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصيام / حدیث: 374
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 53، صحیح مسلم: 17»