حدیث نمبر: 373
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ وَفْدَ ثَقِيفٍ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْزَلَهُمُ الْمَسْجِدَ لِيَكُونَ أَرَقَّ لِقُلُوبِهِمْ ، فَاشْتَرَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لا يُحْشَرُوا وَلا يُعْشَرُوا وَلا يُجَبُّوا وَلا يُسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ مِنْ غَيْرِهِمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُحْشَرُونَ وَلا تُعْشَرُونَ وَلا يُسْتَعْمَلُ عَلَيْكُمْ غَيْرُكُمْ ، وَلا خَيْرَ فِي دِينٍ لَيْسَ فِيهِ رُكُوعٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنو ثقیف کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد میں ٹھہرایا تاکہ ان کے دل نرم ہوں۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر شرط رکھی کہ انہیں جہاد، عشر، اور نماز سے مستثنیٰ کیا جائے، اور ان پر ان کے علاوہ کوئی حاکم مقرر نہ کیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں جہاد اور عشر سے مستثنیٰ کیا جاتا ہے، اور تم پر تمہارے علاوہ کوئی حاکم مقرر نہیں کیا جائے گا، لیکن جس دین میں رکوع (نماز) نہ ہو، اس میں کوئی خیر نہیں۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 373
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 218/4، سنن أبي داود: 3026، حمید طویل اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»