المنتقى ابن الجارود
كتاب الطهارة— پاکی کے احکام و مسائل
كراهية التسليم على من يبول باب: پیشاب کرنے والے کو سلام کرنے کی ناپسندیدگی
حدیث نمبر: 37
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، قَالَ: ثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، قَالَ: ثني أَبُو بَكْرٍ هُوَ ابْنُ عُمَرَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُهْرِيقُ الْمَاءَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ الرَّجُلُ فَرَدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: «إِذَا رَأَيْتَنِي هَكَذَا فَلَا تُسَلِّمْ عَلَيَّ فَإِنَّكَ إِنْ تَفْعَلْ لَا أَرُدُّ عَلَيْكَ السَّلَامَ».ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے۔ ایک آدمی پاس سے گزرا، اس نے آپ کو سلام کہا، آپ نے اسے جواب دے کر فرمایا: جب آپ نے مجھے اس حال میں دیکھا تھا ، تو سلام نہ کہتے ۔ اگر (آئندہ) آپ نے اس طرح کیا، تو میں سلام کا جواب نہیں دوں گا۔