حدیث نمبر: 368
حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : ثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَصَابَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْتَأْمَرَهُ فِيهَا ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالا أَنْفَسَ مِنْهُ ، قَالَ : " إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا " قَالَ : فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ لا يُبَاعُ أَصْلُهَا وَلا تُوهَبُ وَلا تُورَثُ ، فَتَصَدَّقَ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ وَفِي الْغُرَمَاءِ وَفِي الرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر کے علاقے میں ایک زمین ملی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشورہ کرنے آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے خیبر میں ایسی زمین ملی ہے کہ اس سے عمدہ مال میں نے کبھی حاصل نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو اس زمین کے اصل کو روک کر اس کی پیداوار صدقہ کر دو۔ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے صدقہ کر دیا، یہ شرط رکھی کہ اس کا اصل نہ بیچا جائے، نہ ہبہ کیا جائے، نہ وراثت بنایا جائے۔ اس کی پیداوار فقراء، مقروضوں، غلاموں کی آزادی، اللہ کی راہ میں، مسافروں اور مہمانوں کے لیے صدقہ کی۔ جو اس زمین کا نگراں ہو، اس پر کوئی حرج نہیں کہ وہ اس سے معروف طریقے سے کھائے یا اپنے دوست کو کھلائے، بشرطیکہ وہ اس سے مال جمع نہ کرے۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 368
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح البخاری: 2772، 7273، صحیح مسلم: 1632»