حدیث نمبر: 367
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ ، قَالَ : " تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : نُؤَدِّيهَا عَنْكَ نُخْرِجُهَا إِذَا جَاءَ نَعَمُ الصَّدَقَةِ ، قَالَ : قَالَ : يَا قَبِيصَةُ " إِنَّ الْمَسْأَلَةَ حُرِّمَتْ إِلا فِي إِحْدَى ثَلاثٍ : رَجُلٌ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكَ ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَهُوَ يَسْأَلُ حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكَ ، وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ حَاجَةٌ وَفَاقَةٌ حَتَّى يَشْهَدَ ثَلاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَى مِنْ قَوْمِهِ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكَ ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْمَسْأَلَةِ فَهُوَ سُحْتٌ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک ضمانت کی ذمہ داری قبول کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ہمارے پاس زکاة کے اونٹ آئیں گے، تو ہم تمہاری طرف سے اسے ادا کر دیں گے۔ پھر فرمایا: اے قبیصہ! سوال کرنا صرف تین قسم کے لوگوں کے لیے جائز ہے: (1) وہ شخص جس نے کسی کی ضمانت قبول کی ہو، اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر دے، پھر وہ سوال چھوڑ دے۔ (2) وہ شخص جس پر ایسی مصیبت آئے جس نے اس کا سارا مال تباہ کر دیا، اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ زندگی کی ضروریات پوری کر لے، پھر وہ سوال چھوڑ دے۔ (3) وہ شخص جسے شدید حاجت اور فاقہ ہو، حتیٰ کہ اس کی قوم کے تین عقلمند اس کی گواہی دیں، تو اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ زندگی کی ضروریات پوری کر لے، پھر وہ سوال چھوڑ دے۔ اس کے علاوہ سوال کرنا حرام ہے۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 367
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحیح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحیح مسلم: 1044»