حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : وَفِيمَا قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعٍ ، وَحَدَّثَنِي مُطَرِّفٌ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ ، قَالَ : نزلت أَنَا وَأَهْلِي بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ ، فَقَالَ لِي أَهْلِي : اذْهَبْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَلْهُ لَنَا شَيْئًا نَأْكُلُهُ ، وَجَعَلُوا يَذْكُرُونَ مِنْ حَاجَتِهِمْ ، فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ رَجُلا يَسْأَلُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا أَجِدُ مَا أُعْطِيكَ " فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ عَنْهُ وَهُوَ مُغْضَبٌ ، وَهُوَ يَقُولُ : لَعَمْرِي إِنَّكَ لَتُعْطِي مَنْ شِئْتَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لَيَغْضَبُ عَلَيَّ أَنْ لا أَجِدَ مَا أُعْطِيهِ مَنْ يَسْأَلْ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عَدْلُهَا ، فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا " ، قَالَ الأَسَدِيُّ : فَقُلْتُ : لَصحَتُنَا خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ ، قَالَ مَالِكٌ : وَالأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْ فَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ شَعِيرٌ وَزَبِيبٌ فَقَسَمَ لَنَا مِنْهُ حَتَّى أَغْنَانَا اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ .بنو اسد کے ایک شخص نے کہا: میں اپنے گھر والوں کے ساتھ بقیع غرقد میں اترا۔ میرے گھر والوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر ہمارے لیے کھانے کی کوئی چیز مانگ لاؤ۔ وہ اپنی ضروریات بیان کرنے لگے۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو ایک شخص کو آپ سے مانگتے پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: میرے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ وہ شخص غصے میں یہ کہتا ہوا واپس چلا گیا کہ آپ جسے چاہتے ہیں، دیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ مجھ پر اس لیے ناراض ہو رہا ہے کہ میرے پاس دینے کو کچھ نہیں ہے۔ جو شخص ایک اوقیہ یا اس کے برابر مال رکھتا ہو اور پھر بھی مانگے، اس کا مانگنا غیر ضروری (إلحاف) ہے۔ اسدی نے کہا: میں نے سوچا کہ ہماری اونٹنی ایک اوقیہ سے زیادہ قیمتی ہے۔ مالک کہتے ہیں: ایک اوقیہ چالیس درہم کے برابر ہے۔ چنانچہ میں بغیر مانگے واپس آ گیا۔ بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو اور منقیٰ آئے، تو آپ نے اس میں سے ہمارے لیے حصہ دیا یہاں تک کہ اللہ نے اپنے فضل سے ہمیں غنی کر دیا۔