حدیث نمبر: 357
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : ثَنَا عِيَاضٌ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَمْ نزل نُخْرِجُ الصَّدَقَةَ زَمَنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعَ تَمْرٍ أَوْ زَبِيبٍ أَوْ أَقِطٍ أَوْ سُلْتٍ أَوْ شَعِيرٍ ، فَلَمْ نزل نُخْرِجُهُ حَتَّى كَانَ مُعَاوِيَةُ ، فَقَالَ : مَا أَرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ إِلا تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، قَالَ : فَأَخَذَ النَّاسُ بِهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں صدقہ فطر کے طور پر ایک صاع کھجور، منقیٰ، پنیر، سُلت یا جو ادا کرتے تھے۔ یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور آیا۔ انہوں نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ شام کی گندم کے دو مد جو کے ایک صاع کے برابر ہیں۔ چنانچہ لوگوں نے اس کے مطابق عمل شروع کر دیا۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 357
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 1508 ، صحيح مسلم : 985»