حدیث نمبر: 353
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالَ : ثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرٍو الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ عَظِيمٌ ، فَقَالَ : " أَتُؤَدِّي زَكَاةَ هَذَا ؟ قَالَ : وَمَا زَكَاتُهُ ؟ قَالَ : فَلَمَّا وَلَّى ، قَالَ : جَمْرَةٌ عَظِيمَةٌ " ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ : قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ فِي هَذَا ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَعْلَى الطَّائِفِيِّ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

عمرو بن یعلیٰ الثقفی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کے ہاتھ میں سونے کی ایک بڑی انگوٹھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تم اس کی زکاة ادا کرتے ہو؟ اس نے کہا: اس کی زکاة کیا ہے؟ جب وہ واپس جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بہت بڑا انگارہ ہے۔ ابومحمد کہتے ہیں کہ ولید بن مسلم نے اسے سفیان سے اور سفیان نے عمرو بن یعلیٰ الطائفی سے روایت کیا۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 353
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده ضعيف
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده ضعيف : مسند الإمام أحمد : 4/171 ، المعجم الكبير للطبراني : 22/263، ح : 677 عمرو بن یعلی ثقفی یہ عمرو بن عثمان بن یعلی بن مرہ ثقفی ہے، عمرو بن یعلی راوی مجہول ہے، حافظ ابن القطان فاسی رحمہ اللہ کہتے ہیں : لَا تُعْرَفُ حَالُهُ (بیان الوهم والإيهام : 1648) اسی طرح اس کا باپ عثمان بن یعلی مجہول ہے، حافظ ابن القطان فاسی رحمہ اللہ کہتے ہیں : لَا تُعْرَفُ حَالُهُ. (أیضاً) المعجم الكبير للطبراني (22/264، ح : 678) اور السنن الكبرى للبيهقی (4/145) میں عمرو بن یعلی ہے، اگر یہ واقعی عمرو بن یعلی ہے، تو یہ اور اس کا باپ دونوں ضعیف ہیں، ایک وجہ ضعف امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کی تدلیس بھی ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ اس سند کے بارے میں کہتے ہیں: هذا بعيد من الصحة (اختصار السنن الكبير : 4/86)»