حدیث نمبر: 343
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنَا سُفْيَانُ ، ح وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، قَالَ : ثَنَا قَبِيصَةُ ، قَالَ : ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً ، وَمَنْ كُلِّ ثَلاثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً " , وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ : قَالَ : بَعَثَهُ النَّبِيُّ إِلَى الْيَمَنِ فَأَمَرَهُ .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں زکاة لینے کے لیے یمن بھیجا، تو چالیس گائیوں سے ایک مسنہ دو سالہ بچہ اور تیس گائیوں سے ایک تبیعہ ایک سالہ بچہ لینے کا حکم دیا۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 343
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن : سنن أبي داود : 1578 ، سنن النسائي : 2454، سنن الترمذي : 623، سنن ابن ماجه : 1803، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2268) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4886) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (1/398) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَهُوَ حَدِيثٌ صَحِيحٌ (التمهيد : 2/130)، نیز فرماتے ہیں : وَقَدْ رُوِيَ عَنْ مُعَاذٍ هَذَا الْخَبَرُ بِإِسْنَادٍ مُّتَصِلٍ وَصَحِيحٌ ثَابِتٌ (التمهيد : 2/275) اعمش مدلس ہیں، مسند الشاشي (1348) میں ان سے شعبہ بیان کر رہے ہیں، لہذا یہ روایت سماع پر محمول ہے، سنن الدارمي (1664, 1709) اور المعجم الكبير للطبراني (20/129، ح : 262) میں اعمش کی متابعت عاصم بن بہدلہ نے کر رکھی ہے، رہا مسروق کا سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے سماع کا مسئلہ تو یہ سب سے پہلے علامہ ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے، ان سے اس کا رجوع بھی ثابت ہے۔ (المحلی : 6/16) حافظ ابن القطان فاسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : هُوَ الَّذِي كَانَ رَمَاهَا بِالِانْقِطَاعِ ثُمَّ رَجَعَ (بيان الوهم والإيهام : 2/574) ابن القطان رحمہ اللہ نے بھی انقطاع کا رد کیا ہے، ان سے پہلے یہ رد امام اندلس ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے کیا ہے، نیز ائمہ محدثین نے اس حدیث کی تصحیح کر کے انقطاع کا رد کر دیا ہے۔»