حدیث نمبر: 341
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : ثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، قَالَ : ثَنِي أَبِي ، عَنٍ جَدِّي ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ فِي الأَرْبَعِينَ مِنَ الإِبِلِ بِنْتُ لَبُونٍ ، لا تَفَرَّقَ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا بِهَا فَلَهُ أَجْرُهَا ، وَمَنْ مَنْعَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ إِبِلِهِ ، عَزْمَةٌ مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا لا يَحِلُّ لآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
بہر بن حکیم اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس چرنے والے اونٹوں پر بنت لبون ہے، اونٹوں کو ان کی جگہ سے نہ ہٹائیں، جو حصول اجر کی نیت سے زکاة ادا کرتا ہے اسے اجر ملے گا، اور جو شخص زکاة نہیں دے گا ہم اس کی زکاة کے ساتھ آدھا مال بھی لے لیں گے، یہ ہمارے رب کی طرف سے مقرر کردہ حصے ہیں اور ان صدقات میں سے آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کچھ بھی جائز نہیں ہے۔