حدیث نمبر: 337
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْوَرَّاقُ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : ثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَرَجُلانِ مِنْ بَنِي عَمِّي ، فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِّرْنِي عَلَى بَعْضِ مَا وَلاكَ اللَّهُ ، وَقَالَ الآخَرُ مثل ذَلِكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّا لا نُوَلِّي هَذَا الْعَمَلَ أَحَدًا سَأَلَهُ ، وَلا أَحَدًا حَرَصَ عَلَيْهِ " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرے دو چچازاد بھائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان میں سے ایک نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے جو کام آپ کے سپرد کیے ہیں، ان میں سے کسی کا مجھے امیر مقرر کر دیجیے۔ دوسرے نے بھی یہی کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم یہ کام کسی ایسے شخص کے سپرد نہیں کرتے جو اس کا مطالبہ کرے یا اس کی خواہش رکھتا ہو۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الزكاة / حدیث: 337
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: صحيح
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«صحيح البخاري : 7149 ، صحيح مسلم : 1732»