حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ قَطُّ ، وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ بِقَوَائِمِهَا وَأَخْفَافِهَا ، وَلا صَاحِبِ بَقَرٍ لا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِقَوَائِمِهَا ، وَلا صَاحِبِ غَنْمٍ لا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلافِهَا لَيْسَ فِيهَا جَمَّاءُ وَلا مَكْسُورَةٌ قُرُونُهَا ، وَلا صَاحِبِ كَنْزٍ لا يَفْعَلُ فِيهِ حَقَّهُ إِلا جَاءَ كَنْزُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُهُ فَاتِحًا فَاهُ ، فَإِذَا أَتَاهُ فَرَّ مِنْهُ فَيُنَادِيهِ : خُذْ كَنْزَكَ الَّذِي خَبَّأْتَهُ فَأَنَا عَنْهُ غَنِيُّ ، فَإِذَا رَأَى أَنَّهُ لا بُدَّ مِنْهُ سَلَكَ يَدَهُ فِي فِيهِ يَقْضَمُهَا قَضْمَ الْفَحْلِ " ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : وَسَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ هَذَا الْقَوْلَ ، ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ مثل قَوْلِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ : وَسَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَجُلٌ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا حَقُّ الإِبِلِ ؟ قَالَ : حَلْبُهَا عَلَى الْمَاءِ وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَإِعَارَةُ فَحْلِهَا وَمَنْحُهَا وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اونٹوں کا جو مالک ان کا حق زکاة ادا نہیں کرتا، قیامت کے روز وہ اونٹ زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں گے اور اس شخص کو ان کے سامنے ایک چٹیل میدان میں بٹھا دیا جائے گا، وہ اپنے کھروں اور پاؤں سمیت اس کو روندیں گے۔ گائیوں کا جو مالک ان کا حق زکاة ادا نہیں کرتا، قیامت کے روز وہ گائیاں زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں گی اور اس شخص کو ان کے سامنے ایک چٹیل میدان میں بٹھا دیا جائے گا، وہ اپنے سینگوں سے اسے ماریں گی اور اپنے پاؤں سے اس کو روندیں گی۔ بکریوں کا جو مالک ان کا حق زکاة ادا نہیں کرتا، قیامت کے روز وہ بکریاں زیادہ سے زیادہ تعداد میں آئیں گی، اس شخص کو ان کے سامنے ایک چٹیل میدان میں بٹھا دیا جائے گا، وہ اپنے سینگوں سے اسے ماریں گی اور کھروں سے اس کو روندیں گی، ان میں ایک بکری بھی بغیر سینگوں کے یا ٹوٹے ہوئے سینگوں والی نہ ہوگی۔ جو مالدار آدمی مال کا حق ادا نہیں کرتا، قیامت کے دن اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا اور منہ کھول کر اس کا پیچھا کرے گا، جب وہ سانپ اس کے پاس آئے گا تو وہ آدمی اس سے بھاگ جائے گا۔ سانپ اسے آواز دے گا کہ اپنا مال لے جا، جسے تو چھپا چھپا کر رکھتا تھا، مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ جب وہ کوئی چارہ نہیں پائے گا تو اپنا ہاتھ اس کے منہ میں داخل کر دے گا، وہ اسے اونٹ کی طرح کاٹے گا۔ ابوزبیر کہتے ہیں: یہ الفاظ میں نے عبید بن عمیر سے سنے ہیں، پھر میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بھی عبید بن عمیر کی طرح ہی بیان کیا۔ نیز عبید بن عمیر کہتے ہیں: ایک آدمی نے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اونٹوں کا حق کیا ہے؟ فرمایا: گھاٹ پر اس کا دودھ دوہ کر دینا، پانی پلانا، جفتی کے لیے مستعار دینا، تھن دینا اور اللہ کے راستے میں اس پر سوار کرنا۔