حدیث نمبر: 333
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، قَالَ : ثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَمِيعٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، وَعَنِ ابْنِ خَلادٍ ، عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا غَزَا بَدْرًا ، قَالَتْ لَهُ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغْزُو مَعَكَ فَأُمَرِّضُ مَرْضَاكُمْ ، وَأُدَاوِي جَرْحَاكُمْ ، لَعَلَّ اللَّهَ يَرْزُقَنِي شَهَادَةً ، قَالَ : " قَرِّي فِي بَيْتِكِ ، فَإِنَّ اللَّهَ سَيَرْزُقُكِ شَهَادَةً " ، قَالَ : وَكَانَتْ تُسَمَّى الشَّهِيدَةُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا فِي الْجُمَعِ ، فَكَانَ يَقُولُ : اذْهَبُوا بِنَا إِلَى الشَّهِيدَةِ ، وَكَانَتْ قَدْ قَرَأْتِ الْقُرْآنَ وَاسْتَأْذَنَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَنْ يَجْعَلَ فِي دَارِهَا مُؤَذِّنًا فَتُصَلِّي ، فَأَذِنَ لَهَا " .
ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان

سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ بدر کے لیے جانے لگے، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی: اللہ کے رسول! میں بھی آپ کے ساتھ جنگ میں جاؤں گی، مریضوں کا علاج و معالجہ اور زخمیوں کی مرہم پٹی کروں گی، ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی شہادت نصیب فرما دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ اپنے گھر میں ہی رہیں، اللہ تعالیٰ آپ کو شہادت کا اجر عطا فرما دے گا۔ راوی کا بیان ہے کہ ان کا نام ہی شہیدہ پڑ گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن ان سے ملنے جایا کرتے تھے، فرماتے: چلو شہیدہ کے پاس چلیں۔ وہ قرآن جانتی تھیں، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے گھر میں مؤذن مقرر کرنے کی اجازت مانگی تاکہ نماز پڑھیں، آپ نے انہیں اجازت دے دی۔

حوالہ حدیث المنتقى ابن الجارود / كتاب الصلاة / حدیث: 333
درجۂ حدیث محدثین: غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: إسناده حسن
تخریج حدیث از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:«إسناده حسن : مسند الإمام أحمد : 6/405 ، سنن أبي داؤد : 592 ، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1676) نے صحیح کہا ہے، کسی امام کا کسی راوی کی منفرد روایت کی تصحیح کرنا اس کی توثیق ہوتی ہے، اس کا راوی ولید بن عبد اللہ بن جمیع زہری جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ ہے۔»