المنتقى ابن الجارود
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل
باب تخفيف الصلاة بالناس باب: لوگوں کو نماز پڑھاتے وقت اختصار (تخفیف) کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 326
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : ثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : ثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي أَتَأَخَّرُ عَنْ صَلاةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلانٍ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا ، فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ غَضَبًا فِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ ، فَقَالَ : " يَأَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ مِنْكُمْ لَمُنَفِّرِينَ فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيُجَوِّزْ ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفُ وَالْكَبِيرُ وَذَا الْحَاجَةِ " .ابوعکاشہ محمد نعیم رضوان
سیدنا عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: فلاں شخص کی وجہ سے میں فجر کی جماعت میں نہیں آتا، کیونکہ وہ لمبی قرأت کرتا ہے۔ میں نے آپ کو دوران وعظ کبھی اتنے غصے میں نہیں دیکھا جتنا کہ اس دن دیکھا، فرمایا: ”لوگو! تم میں سے کچھ لوگ نفرتیں پھیلاتے ہیں، جو امامت کرائے تو مختصر نماز پڑھائے، کیونکہ اس کے پیچھے ناتواں، بوڑھے اور حاجت مند لوگ بھی ہوتے ہیں۔“